7 ستمبر 2011 - 19:30

صدر مملکت نے پرتگال کے آر ٹي پي ٹي وي سے انٹرويو ميں مشرق وسطي اور شمالي افريقا کے مسائل اور بين الاقوامي معاملات ميں ايران کے موقف کي وضاحت کے ساتھ سامراجي طاقتوں کے دوہرے معياروں پر سخت تنقيد کي ہے.

ابنا: صدر ڈاکٹرمحمود احمدي نژاد نے اس ٹي وي انٹرويو ميں ليبيا کے سلسلے ميں نيٹو کي مداخلت اور سلامتي کونسل کے طرز عمل پر نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کي مداخلتوں سے کسي بھي مسئلے کے حل ميں کوئي مدد نہيں ملتي ـ انہوں نے کہا کہ اس مداخلت کي اصلي وجہ يہ ہے کہ بعض مغربي ممالک اقتصادي مشکلات سے دوچار ہيں اور وہ ليبيا کي بنيادي تنصيبات کو تباہ کرکے اس ملک کے تيل کے ذخائر پر قابض ہو جانا چاہتے ہيں تاکہ اس طريقے سے اپني اقتصادي مشکلات کو حل کر سکيں ـ صدر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ ليبيا کے سلسلے ميں سلامتي کونسل سے بہت بڑي غلطي سرزد ہوئي اور اس کي وجہ بھي واضح ہے کہ يہ ادارہ استعماري طاقتوں کي خدمت کے مصروف ہےـ

سلامتي کونسل کے حربے کے طور پر استعمال کئے جانے پر صدر مملکت کي تنقيد اس حقيقت کي نشاندہي کرتي ہے کہ يہ ادارہ قوموں کے حقوق کي حفاظت کے بجائے ان کے لئے خطرے ميں تبديل ہو گيا ہےـ يہ مسئلہ ايٹمي خطرات کے سلسلے ميں بھي مغرب کي دوہري پاليسيوں ميں ديکھا جا سکتا ہےـ
اس وقت ايٹمي اسلحہ خانوں ميں ستائيس ہزار وار ہيڈ موجود ہيں جن سے دنيا کي سلامتي خطرے ميں ہے اور ان کا بيشتر حصہ امريکہ، فرانس اور روس کے پاس ہےـ صيہوني حکومت بھي انہي ممالک کي مدد سے ايٹمي ہتھيار حاصل کرنے ميں کامياب ہو گئي اور اس نے مشرق وسطي کي سلامتي کو خطرے ميں ڈال دياـ
امريکہ جو ايٹمي ہتھيار استعمال کرنے والا دنيا کا واحد ملک ہے اس وقت ايراني قوم کے خلاف الزام تراشي کر رہا ہے اور اس ملک کے خلاف جس نے فوجي مقاصد کے تحت ايٹمي سرگرمياں انجام نہيں دي ہيں سلامتي کونسل سے قرارداديں پاس کروا رہا ہےـ
فرانس کے صدر نکولا سارکوزي کا ايران مخالف بيان اور ايران کو فوجي حملے کي دھمکي در حقيقت، جيسا کہ صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے پرتگال کے آر ٹي پي ٹي وي چينل سے انٹرويو ميں کہا ہے، اس خام خيالي کا نتيجہ ہے کہ يہ ممالک دنيا کو ايک جنگل اور خود کو اس جنگل کا مالک تصور کرتے ہيں ـ
فرانس کے صدر نے دعوا کيا ہے کہ ايران کے خلاف دنيا کے ممالک کا ايک اتحاد قائم ہو چکا ہے جو ايران کو ايٹمي سرگرميوں اور لمبي دوري تک مار کرنے والے ميزائلوں کي تياري روکنے کے لئے ايران پر حملہ کر سکتا ہےـ صدرڈاکٹرمحمود احمدي نژاد نے اس بيان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے يہ سوال اٹھايا کہ کيا واقعي دنيا ايک جنگل ہے اور صدر فرانس خود کو اس جنگل کا مالک سمجھتے ہيں؟
حقيقت يہ ہے کہ بعض ممالک دنيا کو دھونس اور دھمکي کے زور پر چلانا چاہتے ہيں جبکہ حالات بدل چکے ہيں اور دنيا کو فکر و ثقافت اور دوستي و انسانيت کي بنياد پر ہي چلايا جا سکتا ہےـ
عراق اور افغانستان پر غاصبانہ قبضے، دس لاکھ سے زيادہ انسانوں کے قتل عام، غزہ اور لبنان پر اسرائيل کے حملوں جيسے جرائم، اس سے قبل ہيروشيما اور ناگاساکي پر امريکہ کي ايٹمي بمباري اور ويتنام ميں امريکہ کي مجرمانہ کارروائياں ايسے مسائل ہيں جن کے سلسلے ميں امريکہ اور ديگر مداخلت پسند طاقتوں کو چاہئے کہ عالمي برادري کو جواب ديں کيونکہ آج قوموں کو بخوبي علم ہو چکا ہے کہ عالمي سطح پر منصوبہ بند دہشت گردي کا باني کون ہے؟-

.............

/169